اس مضمون میں چینی متن شامل ہیں۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، چینی حروف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
ٹی وی شوز
روایتی اندازِ کاروبار کی طرح کرپٹو ایکسچینج بھی کسی بروکریج ہاؤس کی طرح کام کرتا ہے جہاں لوگ بینکوں سے اپنی رقوم نکال کر ڈالر یا پاونڈ کو بِٹ کوائن یا ایتھیریم جیسی کرپٹی کرنسیوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
تمام متن کری ئیٹیو کامنز انتساب / یکساں-شراکت اجازت نامہ کے تحت دستیاب ہے، اضافی شرائط بھی عائد ہو سکتی ہیں۔ تفصیل کے لیے استعمال کی شرائط ملاحظہ فرمائیں۔ خیال رہے کہ ویکیپیڈیا® ایک غیر منفعت بخش تنظیم ویکی میڈیا فاؤنڈیشن انکارپوریشن کا تجارتی مارکہ ہے۔
میرے نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کل شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے: صدر ٹرمپ
او آر ایف کے شیوامورٹی نے کہا کہ بھوٹان کے پاس جو کچھ ہے وہ ایک ماحول اور قدرتی وسائل ہے جو کریپٹوکرنسی کی کان کنی کے لئے موزوں ہے۔
یہ کرنسیاں اداروں کی طرف سے بنائی جاتی تھیں۔ وہی ان کا نظام سنبھالتے تھے لیکن ان میں چند خرابیاں تھیں ۔ مثلاً : اداروں کا دیوالیہ ہو جانا یا صارفین کی رقم لے کر ادراے کا غائب ہو جانا یا مخصوص ممالک کی طرف سے قانونی مسائل کا ہونا۔ ان مسائل کےباعث یہ کرنسیاں زیادہ نہ چل سکیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں تازہ ترین اضافہ اس لیے نہیں ہو رہا ہے کیونکہ انفرادی خوردہ سرمایہ کار بٹ کوائنز خرید رہے ہیں۔
سپورٹرز کرپٹو کرنسیوں جیسے کہ بٹ کوائن کو مستقبل کی کرنسی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انہیں ابھی خریدنےکے خواہش مند ہیں اس سے پہلے کہ وہ زیادہ قیمتی ہو جائیں۔
اگر کر پٹو کرنسی میں کسی کو قرض دیا جائے تو اس پر سود لینا جائز نہیں ہے۔
بٹ کوائن نیٹ ورک کے رضاکاروں کا اس میں فائدہ یہ ہے کہ جو بھی اس خرید و فروخت کی پہلے تصدیق کرتا ہے اسے انعام میں بِٹ کوائن دیے جاتے ہیں اس قابل منافع عمل کو ’مائننگ‘ کہا جاتا ہے۔
بھوٹان کے بادشاہ ، جیگے کھسار نامگیل وانگچک نے طویل عرصے سے ملک کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے کی وکالت کی ہے۔
چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید بٹ کوائن کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟
ہم نے عرض کیا کہ چونکہ کر پٹوکرنسی ایک زرہے تو اس پر شرعی طور پر زر کے احکامات لاگو ہوں گے، زرکی آپس میں خرید و بٹ کوائنز کی قیمت فروخت کے تعلق سے جو شروط اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں وہ ہم نے اجمالاً ذکر کردیں۔ دیگر احکامات جو زر کے تعلق سے شریعت کے ہمیں ملتے ہیں ان کا بھی اجمالی ذکر ضرروی ہے۔ ان احکامات کو ہم کر پٹوکرنسی پر لاگو کرتے ہوئے سمجھتے ہیں :